Syed Aarish Gilani: A Resonant Voice of Saraiki Poetry
Syed Aarish Gilani (real name: Syed Fayyaz Hussain Shah Gilani) is a prominent Saraiki poet from Jaman Shah, District Layyah, Punjab, Pakistan. He was born on March 1, 1973, into a respected Gilani family. His father, Syed Talib Hussain Shah Gilani, played a vital role in shaping his ethical and cultural values.
Although he completed formal education up to Matriculation (Higher Secondary School Jaman Shah), his true learning came from life, land, language, and people. His permanent residence is Pipli Syedan Sharif, Moza Kanal, Thal Jandi, Jaman Shah, Layyah.
Literary Journey
Syed Aarish Gilani began writing poetry in 1992, choosing Saraiki as his primary medium of expression. His poetry reflects the pain, passion, resilience, and spiritual depth of the Saraiki region. Themes of love, deprivation, identity, and inner struggle dominate his work.
Literary Contributions
Beyond poetry, he is an active literary organizer. In 1998, he founded Bazm-e-Aarish Adabi Saraiki Sangat Jaman Shah, where he serves as Founder and President. The organization holds monthly literary sessions and an annual Saraiki Mushaira, contributing significantly to the promotion of Saraiki language and literature.
Published Works
Adraak (2011)
Bik Pani Da (2013)
Rab Diyan Jhalan (2016)
Mekoon Mehsoos Keeta Kar (2019)
Pakkiyan Faslaan (2022)
Sik (2025)
The latest collection, “Sik”, represents a mature poetic voice that delves deeply into emotional dryness, existential thirst, and socio-cultural realities of the Saraiki people.
سید عارش گیلانی: سرائیکی دھرتی کی آواز، لفظوں کا مسافر
سید عارش گیلانی (اصل نام: سید فیاض حسین شاہ گیلانی) کا تعلق سرائیکی وسیب کے علمی و تہذیبی قصبے جمن شاہ، ضلع لیہ (پنجاب) سے ہے۔ وہ یکم مارچ 1973ء کو ایک معزز سادات گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد سید طالب حسین شاہ گیلانی ایک باوقار اور روایتی اقدار کے حامل فرد تھے، جن کی تربیت نے سید عارش گیلانی کی شخصیت اور فکری ساخت پر گہرا اثر ڈالا۔
سید عارش گیلانی نے میٹرک تک تعلیم حاصل کی (ہائیر سیکنڈری اسکول جمن شاہ)، مگر رسمی تعلیم سے بڑھ کر انہوں نے دھرتی، زبان، انسان اور دکھ کو اپنا استاد بنایا۔ ان کا مستقل پتہ پپلی سیداں شریف، موضع کنل، تھل جنڈی، پوسٹ آفس جمن شاہ، تحصیل و ضلع لیہ ہے، جہاں آج بھی سرائیکی ثقافت کی خوشبو رچی بسی ہے۔
ادبی سفر اور شاعری کا آغاز
سید عارش گیلانی نے 1992ء میں شاعری کا آغاز کیا۔ ابتدا ہی سے انہوں نے سرائیکی زبان کو اپنے اظہار کا وسیلہ بنایا اور اس زبان میں اپنے خطے کے دکھ، محبت، محرومی، مزاحمت اور روحانی وارداتوں کو آواز دی۔ ان کی شاعری میں تھل کی تپش، وسیب کی تنہائی، کسان کی محنت، اور انسان کے باطن کی چیخ نمایاں طور پر سنائی دیتی ہے۔
ادب و ہنر
سید عارش گیلانی نہ صرف ایک قادرالکلام شاعر ہیں بلکہ ایک متحرک ادبی منتظم بھی ہیں۔ وہ باقاعدگی سے مشاعرے منعقد کراتے ہیں اور سرائیکی شاعروں کی ایک بڑی حلقۂ دوستی رکھتے ہیں۔ ان کی ادبی خدمات کا ایک روشن پہلو ادبی تنظیم کا قیام ہے۔
بزمِ عارش ادبی سرائیکی سنگت
قیام: 1998ء
بانی و صدر: سید عارش گیلانی
ماہانہ ادبی اجلاس: ہر ماہ 5 تاریخ
سالانہ مشاعرہ: 5 مارچ
یہ سنگت جمن شاہ اور گرد و نواح میں سرائیکی ادب کے فروغ کا ایک مضبوط حوالہ بن چکی ہے۔
تصانیف و کتب
سید عارش گیلانی کی شاعری مسلسل ارتقا کا سفر ہے، جو ان کی کتب سے بخوبی عیاں ہے:
اڈراک (2011)
بک پانی دا (2013)
رب دیاں جھالاں (2016)
میکوں محسوس کیتا کر (2019)
پکیاں فصلاں (2022)
سک (2025)
خصوصاً “سُک” ایک پختہ، علامتی اور فکری سرائیکی مجموعۂ کلام ہے، جس میں محرومی، داخلی پیاس، سماجی جبر اور وجودی احساسات کو نہایت سادہ مگر گہرے لہجے میں پیش کیا گیا ہے۔
ادبی مقام
سید عارش گیلانی آج سرائیکی ادب میں ایک معتبر نام ہیں۔ ان کی شاعری محض الفاظ کا ہیر پھیر نہیں بلکہ وسیب کی اجتماعی یادداشت، روحانی کرب اور انسانی سچائی کا بیان ہے۔
سِک سید عارش گیلانی کی چھٹی اور فکری طور پر سب سے پختہ سرائیکی کتاب ہے۔ اس مجموعے میں شاعر نے انسانی پیاس، روحانی سوکھ، سماجی ناہمواری اور وسیب کی خاموش چیخ کو علامتی اور اثر انگیز شاعری میں ڈھالا ہے۔ یہ کتاب سرائیکی ادب کے سنجیدہ قارئین کے لیے ایک اہم اضافہ ہے۔






Shala wasday raho …. sohni kitab parrhan ketay ditti hivay, shah sahib nu bahon wadhai
اکھیں ٹھرن سئیں عارش دی کتاب کوں ڈیکھ تے ۔۔۔۔
HARD COPY KAISAY MILAY GI SIR?